کارخانۂ قدرت

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - کارخانۂ الٰہی، دنیا و کاروبارِ دنیا، مظاہراتِ فطرت، دنیا میں ہونے والے معاملات۔ "کارخانہ قدرت کے شیدائی دیکھ رہے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، راشد الخیری، نالہ زار، ٣٢ )

اشتقاق

فارسی زبان میں کردن مصدر سے حاصل مصدر 'کار' کے بعد فارسی لاحقہ ظرفیت 'خانہ' اور پھر اسے ہمزہ اضافت کے ذریعے عربی زبان سے مشتق اسم 'قدرت' کے ساتھ ملانے سے مرکب ہوا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٠ء کو "خطبات احمدیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کارخانۂ الٰہی، دنیا و کاروبارِ دنیا، مظاہراتِ فطرت، دنیا میں ہونے والے معاملات۔ "کارخانہ قدرت کے شیدائی دیکھ رہے ہیں۔"      ( ١٩٣٦ء، راشد الخیری، نالہ زار، ٣٢ )

جنس: مذکر